Ads

Breaking News

پیار

مجھے پولیس کے ٹریننگ کیمپ پر آئے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا۔ ایک دن میں لائبریری گیا تو ادھر شیلف سے ایک کتاب نکالی، میں کتاب پڑھ رہا تھا اور نوٹ کر رہا تھا کہ کسی لڑکی سعدیہ نے ہر جگہ اپنا نام لکھا ہوا تھا، میں حمیرا احمد کا ناول ’پیر کامل‘ پڑھ رہا تھا اور اس میں جدھر بھی محبت یا دین کی بات آتی وہاں اس لڑکی نے یا تو پینسل سے کوئی نہ کوئی اقوال زریں لکھی ہوئی تھی یا اپنا نام لکھا ہوا تھا۔ میں اس کی پسند سے بہت متاثر ہوا اور مجھے لگا کہ وہ بہت حد تک میری ہم خیال تھی۔ میں نے کتاب کے آخری ورق پر دیکھا تو اس کا ایڈریس لکھا تھا۔ میں نے جا کر لائبریرین سے پوچھا کہ یہ کسی کتاب پر ایسے لکھا کیسے جا سکتا ہے؟
تو اس نے بتایا کہ یہ ناول دراصل مس سعدیہ کا ہی ہے اور انہوں نے اپنی بہت سی کتابیں ادھر لائبریری میں رکھی ہوئی ہیں۔میں نے اس کا ایڈریس ادھر سے اپنے موبائل میں فیڈ کر دیا۔ کیمپ واپس آکر بھی وہ میرے دماغ سے نکل نہیں رہی تھی سو میں نے اس کو ایک خط لکھا اور بتایا کہ کیسے مجھے حمیرا حمد کے ناول سے اس کے بارے میں پتہ چلا تھا۔ اس نے میرے خط کا جواب دیا اور اس طرح ہمارے پیار کا سلسلہ چل پڑا۔ ہر دوسرے دن ہم کسی نہ کسی ناول یا کسی کتاب کی بات کرتے رہتے۔ ایک دن میں نے اس سے فرمائش کی کہ میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس نے آگے سے تصویر دینے سے انکار کر دیا اور لکھاکہ محبت میں شکل و صورت نہیں دل دیکھا جاتا ہے ۔ میں اس کی ہر بات کا پہلے بھی قائل تھا سو میں بھی چپ کر گیا۔ آخر کافی ماہ کے بعد وہ مجھ سے ملنے کے لیے راضی ہو گئی۔
میں اپنے دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اسی کو اپنا شریک حیات بنانا ہے کیونکہ میں اس کی گہرائی اور شخصیت کا اسیر بن چکا تھا۔ ہم دونوں نے ایک ریسٹورنٹ پر ملنے کا ارادہ کیا اور وقت مقرر کر لیا۔ میں وقت سے آدھے گھنٹے پہلے ہی وہاں پہنچ گیا اور اپنے پولیس کے یونیفارم میں بہت وجیہہ نظر آرہا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہو گی۔ آدھا گھنٹہ ایسے گزرا جیسے آدھی زندگی بیت گئی ہو۔ میں بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا کہ سامنے سے ایک خوبصورت سی لڑکی آتی دکھائی دی۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں اور میں قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ اس جہان کی ساری ندیوں ، ساری جھیلوں سے گہری تھیں۔ سعدیہ نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنے کوٹ پر ایک لال گلاب سجا کر آئے گی اور میں اس طرح اس کو پہچان سکتا ہوں۔ وہ لڑکی پاس آئی اور میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، میں نے اس کے کوٹ پر دیکھا تو کوئی پھول نہیں تھا۔ میں کافی افسردہ ہوا کہ پیچھے ایک عورت پر نظر پڑی جو کافی ادھیڑ عمر تھی، چالیس سے تو اوپر کی تھی۔
اس کے کوٹ پر لال گلاب لگا ہوا تھا اور وہ بہت بھاری بھرکم خاتون تھیں۔ میرے سارے خوابوں پر پانی پھر گیا اور میں نے سوچا کہ یہ میں اتنے عرصے سے کیا کر رہا تھا، کتنی بڑی بیوقوفی کی میں نے۔ لیکن میرا دل جانتا تھا کہ اس عورت سے میری کتنی ذہنی ہم آہنگی تھی، اور میں اس کے ساتھ بر ا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس سے شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن میں اس سے بہت اچھی دوستی رکھوں گا۔ میں اس کے پاس گیا اور بولا کہ سعدیہ کیسی ہو؟ وہ عورت مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگی جیسے میں پاگل ہوں۔ آگے سے بولی کہ بیٹا کیا میں آپ کو جانتی ہوں؟ میں ہکا بکا رہ گیا، میں نے بولا کہ یہ پھول؟ تو وہ بولی کہ ابھی جو لڑکی میرے سے پہلے گئی ہے مجھے ادھر ملی اور اس نے مجھے یہ پھول دے کر بولا کہ اس کو اپنے کوٹ پر لگا لوں اور اگر تم میرے پاس آؤ تو تمہیں بتاؤں کہ وہ لڑکی سامنے ریسٹورنٹ میں تمہارابے چینی سے انتظار کر رہی ہے۔
میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ اسی مس سعدیہ کا مجھے جانچنے کا طریقہ تھا کیانکہ وہ کبھی کسی ایسے انسان کو پسند نہیں کر سکتی تھی جو صرف اور صرف اس کی خوبصورتی کے پیچھے آئے۔ اور وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ ہماری ذہنی ہم آہنگی میرے لیے کتنی قیمتی تھی۔ اگر میں اس عورت کو دیکھ کربھاگ جاتا تو وہ مجھے کبھی نہ بتاتی کہ وہ اس دن ریسٹورنٹ آئی تھی اور وہ کتنی حسین تھی۔ میں اتنا خوش تھا کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا، میں اندر ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تو وہ مجھے دیکھ کرہنسنے لگ گئی۔

No comments