ہندوستانی عازمین اب اس راستے سے بھی حج کے لئے مکہ مکرمہ جا سکیں گے
نئی دہلی۔ ہندوستان سے تقریباً دو دہائی بعد
عازمین اب سمندری راستے کے ذریعہ بھی سفر حج کے لئے مکہ مکرمہ جا سکیں
گے۔ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے آج یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا
کہ سعودی عرب کی حکومت نے سمندری راستے سے سفر حج کی ہندوستان کی تجویز کو
منظوری دے دی ہے۔ اب دونوں ملکوں کے افسران اس کے لئے ضروری ضابطوں اور
تکنیکی پہلووں پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ آئندہ برسوں میں سمندر کے راستے
سفر حج شروع کیا جا سکے۔
مسٹر نقوی اور
سعودی عرب کے حج و عمرہ کے وزیر ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر کے درمیان مکہ
مکرمہ میں کل باہمی سالانہ حج معاہدہ 2018پر دستخط کے دوران یہ فیصلہ کیا
گیا۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ عازمین حج کو پانی کے جہاز سے مکہ بھیجنے سے سفر
خرچ میں کافی کمی آجائے گی۔ انہوں نے اس فیصلے کو انقلابی اور غریبوں اور
عازمین کے لئے مددگار قرار دیا۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے سمندری
سفر بحال کرنے پر گذشتہ سال ٹرانسپورٹ اور جہاز رانی کے وزیر نتن گڈکری سے
بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں پانی کے جہاز جدید ہوتے ہیں اور ایک
بار میں چار سے پانچ ہزار مسافر ا س سے سفر کر سکتے ہیں۔ ممبئی سے جدہ کے
درمیان 2300ناٹیکل میل کی ایک طرفہ دوری تین سے چار دنوں میں پوری کی
جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے سمندری سفر 1995میں بند کردی گئی تھی۔ پہلے پرانے
جہاز چلتے تھے اور یہ دوری پورا کرنے میں بارہ سے پندرہ دن لگ جاتے تھے۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب حکومت نے
حج 2018کو پوری طرح ڈیجیٹل بنانے کے ہندوستان کے اقدامات کی تعریف کی ۔
مسٹر نقوی نے بتایا کہ پہلی مرتبہ بغیر محرم کے حج پر جانے والی ہندوستانی
خواتین کے لئے سعودی عرب میں الگ سے ٹرانسپورٹ اور رہنے کا نظم کیا گیا ہے
اور ان کی مدد کے لئے خاتون حج معاونین کی تقرری کی جائے گی۔ اب تک 1300
خواتین بغیر محرم کے حج پر جانے کے لئے درخواست دے چکی ہیں اور انہیں قرعہ
اندازی سسٹم میں شامل کئے بغیر ہی منظوری دے دی جائے گی۔ مسٹر نقوی نے
بتایا کہ حج 2018کے لئے اب تک تقریباً تین لاکھ 59ہزار درخواستیں موصول
ہوچکی ہیں۔


No comments