مولوی شریف الدین کی محبوبہ
''محبوبہ مرحومہ'' محبوبہ.... بیوی کا نام تو پیارا تھا مگر مولبی شریف الدین کبھی منہ سے نہ پھوٹے. ُٰ '' لاحولاولا....غیر شرعی سا ہے'' .ہمیشہ توُ تڑاک آپ جناب کہہ کر بیوی کو مخاطب کیا ڈیمانڈ حد سے تجاوزکرگئں تو شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محترمہ کہہ دیتا، اتنی عنایت پرمحبوبہ کے گال گلابی آنکھیں شرابی،اور چال نوابی ہو جاتی، بس پھر کیا...مولبی خود کو لعن تعن کرتے ہوئے ''اندھیرا'' ہونے سے قبل اسے محترمہ کہنے کا رسک نہ لیتا۔ خیر،مولبی تھا خوش بخت، ایسا خوش نصیب جسے بھری جوانی میں رنڈوا ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ مولبی برادری کے اعدادوشمار کے مطابق بھائ نے یہ معرکہ شادی کے تین سال بعد ''مارا'' اسے برادری بھر میں ستائشی نظروں سے دیکھا جانے لگا، کچھ اتاولے اس امید پر اسکے قرب کی بھرپور کوشش کرتے کہ شاید بندہِ مومن کی
بندہِ مومن کی نحوست کے صدقے ہمارے دن بھی پھر جائیں۔ درحقیقت یہ پرمسرت سانحہ مولبی کے لیئے زرا سی پریشانی کا سبب تھا۔ جانِ مولبی جاتے سمے دوسری شادی نہ کرنے کا وعدہ بھی لی گئ تھی۔ بندہ تھا ''جگاڑی'' محبوبہ عالم نزاع میں اور وہ سوچ رہا تھا کچھ بھوکے ننگوں کو کھانا کھلا کر کفارہ ادا کر لوں گا۔ نماز جنازہ میں شریک علاقہ بھر کے نادار ومفلس پھوپڑے اس کی ڈہارس بندھاتے رہے، قبرستان پہنچتے ہی مرد کے لیئے عدت نہ ہونے کے قانون پر رقصاں، یعنی سب سیٹ، گارا ڈلتے سمے بھی وہ اپنے آنے والے کل کو لے کر ارمانوں کا ایک محل بنانے ہی والا تھا '' مٹی ڈالیں'' اسے آواز سنائ دی، یہ محبوبہ کا چھوٹا بھائ تھا۔ عظیم ہستی نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے خیالوں کے گدھے لگام دی اور سابقہ سالے کے ساتھ مٹی کا گھر بنانے لگا گھر میں چہل پہل تھی۔ جب سے رنڈوا ہوا محلے کی بے پردہ خواتین یاد سے شرعی پردے اور شرعی فاصلے کا اہتمام فرمانے لگی تھیں، سرکارنے سوچا سوگ اپنی جگہ تاہم دوسری شادی بھی تو سنت عمل ہے
اور اس کارِخیرکو بخوبی سر انجام دینے کے واسطےرشتے کروانےوالی ایکسپرٹ ماسی کی خدمات حاصل کی جائیں، ہاں مگر چہلم سے پہلے دوسری شادی کو مکرو سمجھتا تھا اسی لیے ماسی کو فی الحال اپنی ٹکر کی تمام لڑکیوں پر نظر رکھنے کا ٹاسک دیا گیا۔ ''سوگ'' کو ہفتہ بھر ہونے کو آیا تاہم جناب اور ماسی مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے رہے، اس عظیم کھوج و جگل بندی کے نہایت اہم موقع پر حضرت کو اپنے کلوتے بیٹے کا خیال تک نہ رہا وہ تو بھلا ہو ایک خاتون کا جو روتے ہوئےننھے عبدالله کو اس کی گود میں ڈال گئی۔ شریف الدین نےاسے بغور دیکھا، آنسو پونچھے...ماتھا چوما... سینے سے کس کر لگا دیا..اس کے اندر کا باپ کچھ دیر زندہ رہا...عبدالله , محبوبہ پر گیا تھا... خوبصورت, گہری کالی آنکھیں...اس کی پیدائش کی خوشی میں مولبی ساب نےچار کعت اور شکل وصورت ماں پر جانے کی خوشی میں دو سو اضافی نوافل ادا کیئے..
ایک اک کر سارے مہمان جا چکے سوائے سابقہ سالے صاحب کےجو عبدالله کی دیکھ بھال کرتا۔ ''سوگ'' ختم مولبی ساب ایک دن کتاب کھولے مطالعہ میں غرق تھے کہ ننھے عبدالله نےشور ڈال دیا۔ مولبی ساب نے کتاب بند کی، گہری سانس لی، عبداللہ کا ورد جاری، پارا ہائ ہوا '' محبوبہ کہاں مر گئ ہو.. تم سے بچہ نہیں سنبھالا..'' اس سے پہلے کہ جملہ مکمل کر پاتا، دروازے پر کھڑے سابقہ سالے کے ہاتھ سے کچھ گرا، آواز آئ کچھ تو ٹوٹا۔ مولبی ساب چونک کر مڑااور سالے کو دیکھا جو غصے میں تھا '' اس کے جیتے جی تو محبوبہ نہ کہا... اب تو مرحومہ ہیں وہ''... اتنا کہہ کر وہ بھاگتے ہوئے عبدالله کے کمرے میں غائب ہو گیا۔
اسے احساس ہوا کہ شادی کے بعد آج پہلی بار اس نے اپنے منہ سے محبوبہ پھوٹا، کچھ دیر اعصاب سن رہے بڑبڑایا ''کیا جانِ جاں سےسلسلہ نہ رہا'' بس پھر کیا تھا '' مرحومہ...? نہیں محبوبہ..مرحومہ...محبوبہ.. مرحومہ .... محبوبہ..آہ..'' ایک لہر سی سارے وجود میں دوڑی اور راستے میں آنے والی ہر شے کو پگھلا کر موم بنا دیا...جونہی ضمیر اس کی زد میں آیا...گہری.. بہت گہری اداسی نے اسے آن لیا..ہاتھ کپکپائے..کتاب گری..پلکیں چھپکائیں....آئیں... بائیں... شائیں...اور پھر...آنسووں نے قطار توڑ دی.. سابقہ سالا کھڑا ہچکیاں لے کر روتے شریف الدین کو حیرت سے دیکھتا اور خود بھی روتا رہا...لمحے...سیکنڈ..منٹ...حتیٰ کہ ایک گھنٹہ گزرگیا... کہنے کو وہ اک لمحہ تھا مگر مولبی بدل گیا... ایکسپرٹ ماسی کو لڑکیاں ڈھونڈنے سے منع کیا تو سابقہ سالے نے حیرت سے وجہ پوچھی.. ''اک...اک لہر...'' اتنا کہہ کر اکثر جذباتی ہو جاتا... بدن کانپنے لگتا.. بے تحاشا روتا...تین لفظوں سے زیادہ کبھی کچھ ادانہ کرپایا وہ....پھر اس نے کچھ پکے اصول بنا لیئے.. دوسری شادی کرنے والوں سے دور رہتا.. اگر محفل میں کسی ایسے شخص کی موجودگی کا گماں گزرتا تو واک آوٹ کر جاتا...ایک سے زائد شادیوں پر کبھی وعظ نہ فرمایا...رات کو عبدالله کے سوتے ہی چپکے سے محبوبہ سے ملاقات کرتا.. گپ شپ ہوتی.. ہنستا.. ہنساتا.. مگر اسے کبھی نہ رلاتا... پھر دن.. وہی محلے کی مسجد اور کھڑوس سامولبی شریف الدین.. پھر رات..اور کالی رات میں قبر کے اوپر لیٹا ایک عاشق... کسی محبوبہ ...یا مرحومہ کا....محبوبہ..مرحومہ..محبوبہ.. مرحومہ..آہ.


No comments