تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟
یہ ایک چھوٹے سے بچے کی سچی کہانی ہے۔ اس کی
ماں صرف چھبیس سال کی تھی اور اس کے نو عمر لڑکے کو اسی دن ہسپتال سے’
ٹرمینل لیوکیمیا ‘تشخیص ہوا تھا۔ وہ عورت بہت اداس ہوئی۔ لڑکا ہسپتال میں
داخل کر لیا گیا۔ اس کی ماں اس کے سر ہانے بیٹھی تھی اور بہت پریشان تھی۔
وہ کسی طرح بھی اپنی بیٹے کو موت کے منہ سے نہیں نکال سکتی تھی۔ اس نے اپنے
بیٹے سے پوچھا کہ تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے تھے؟ اس نے فوراً جواب دیا
کہ میں نے تو’ فائر فائٹر‘ بننا تھا۔ یہ انگریزی میں آگ بجھانے والے عملے
کے لوگوں کو کہتے ہیں۔ اس نے ماں سے بولا کہ میں بہت اچھا اور دلیر فائر
فائٹر بنتا۔ اس کی ماں نے اس کی یہ بات ذہن نشین کر لی اور اگلے دن جب وہ
سو گیا تو وہ ہسپتال سے نکل کر ’ایریزونا‘ کے لوکل فائر ڈپارٹمنٹ میں چلی
گئی۔ اس نے ادھر کے ہیڈ باب سے بات کی ۔ اس کو بتایا کہ اس کا بیٹا ابھی
کافی کم عمر تھا اور اس کو کینسر تشخیص ہوا ہے اور وہ زیادہ عرصے زندہ نہیں
رہ پائے گا۔ اس نے اپنے بیٹے کی خواہش باب کو بتائی۔ اس نے باب سے درخواست
کی کہ صرف تھوڑی سی دیر کے لیے اس کے بیٹے کو ہسپتال سے فائر بریگیڈ کی
سیر کروا دے۔
باب نے بولا کہ میڈم ہم آپ کے بیٹے کے لیے
اس سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔ کوئی اور خدمت بتائیں۔ میں آپ کے بیٹے کو بدھ
شام سات بچے ہسپتال سے اپنے فائر ٹرک میں پک کروں گا اور پورا دن وہ ہمارے
ساتھ گزارے گا۔ جتنی بھی کالز آئیں گی، ان پر بھی ہم اس کو ساتھ لے کر
جائیں گے۔ اگر زیادہ خطرہ ہوا تو فیلڈ پر نہیں لجائیں گے مگر اس کے لیے
یونیفارم بھی بنوا لیں گے۔ وہ بچوں کا فائر فائٹنگ یونیفارم پورا دن زیب تن
کر کے رکھے گا۔ بچے کی ماں بہت خوش ہوئی اور ان کا شکریہ ادا کر کے واپس
ہسپتال پہنچ گئی۔ ببدھ کو شام سات بچے باب نے نیچے آکر ٹرک کا ہارن بجایا
تو اس بچے کی ماں اس کو نیچے لے گئی۔ اس نے فائر ٹرک دیکھا تو اچھلنے کودنے
لگا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ باب نے اسے اٹھا کر ٹرک میں ڈالا اور ساتھ فائر
سٹیشن لے گیا۔ اس کو ادھر بچوں کا یونیفارم دیا۔ اس دن فائر سٹیشن میں تین
کالز آئیں۔ تینوں پر باب اس کو ٹرک میں اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا کر لے
کر گیا۔ جب وہ رات کو واپس آیا تو اتنا خوش تھا کہ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔
اس کی ماں کو بھی بہت خوشی ہوئی اور اس نے جا کر باب کا شکریہ ادا کیا۔
اس واقعے کے بعد تین ماہ تک وہ بچہ زندہ رہا
اور روز اسی دن کی کہانیاں اپنی ماں کو سناتا رہتا۔ وہ بیٹھ کر ہنستی رہتی
تھی۔ تین مہینے بعد وہ منحوس گھڑی آن پہنچی جب وہ بہت کمزور اور سست پڑ
گیا۔ ڈاکٹر نے بتا دیا کہ اس کے آخری کچھ گھنٹے رہ گئے ہیں۔ اس نے باب کو
فون کیا اور اس سے درخواست کی کہ کسی ایک فائر فائٹر کو اس کے کمرے میں
یونیفارم میں بھیج دے۔ اس نے کہا میڈم ہم آپ کے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کر
سکتے ہیں۔ باب نے ہسپتال کے عملے کو کال ملائی اور انہیں بتایا کہ عملے کو
خبر کر دیں کی فائر ٹرک آرہا ہے اور زور زور سے سائرن بجاتے ہوئے ہی آئے گا
مگر کوئی بھی پریشان نہ ہو کیونکہ وہ یہ سب کچھ اس بیمار بچے کے لیے کر
رہے ہیں۔ جب فائر ٹرک آگیا تو باب نے سیڑھی سیدھی ہسپتال کی تیسری منزل پر
باب کے کمرے کی کھڑکی کو لگائی۔ پانچ فائر فائٹر باب سمیت کھڑ کی سے اندر
داخل ہوئے اور ان کو دیکھ کر وہ بچہ کھل اٹھا۔ باب اس کے پاس گیا اور اسے
ہگ کیا۔ اس نے باب سے پوچھا کہ انکل میں اصل میں فائر فائٹر بن گیا ہوں
کیا؟ تو باب نے پیار سے جواب دیا کہ ہاں بیٹا آپ اصل میں فائر فائٹر بن گئے
ہو۔ یہ سن کر اس بچے نے آخری سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے بعد اس
نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ وہ فوت ہو گیا۔


No comments