سجا سجایا مال بکاؤ ہی لگتا ہے بیٹی
بال بکھرائے۔ دوپٹہ کندھے پہ ڈالے۔ اونچی سی تنگ کُرتی اور ٹائیٹس پہنے وہ بازار میں گھوم رہی تھی۔ دیکھنے میں تعلیم یافتہ لگ رہی تھی اور اچھے گھر کی۔ ظاہرہے یہ بتانا بھی تو پڑتا ہے کہ پڑھے لکھے امیر گھر سے تعلق ہے کوئی عام سی لڑکی تھوڑی تھی مڈل کلاس ۔۔ جو چادر سے خود کو چھپاتی ہو۔ آج کے دور کی لڑکی تھی اپنی دھن میں شاپنگ کرنے میں مصروف تھی۔ کسی نے اسے گہری نظر سے دیکھا۔ کسی نے اپنے ساتھی کو مخاطب کر کے کہا دیکھ یار کیا چیز ہے۔۔ کسی نے سر سے لیکر پاؤں تک اس کو تولا اور تو اور ۔۔ ایک منچلے نے شوخ فقرہ اچھالا تو اس نے گھما کر تھپڑ دے مارا لوگ جمع ہو گئے تماشہ لگ گیا لڑکی طیش میں چیخ رہی تھی۔ لڑکی کو بکاؤ


No comments