Ads

Breaking News

بغیرمحنت کے،کوئی اپنا ہدف حا صل نہیں کر سکتا

ہدف کس چیز کو کہتے ہیں؟کوئی بھی انسان جو اس روئے زمین پر آیا ہے اپنے ساتھ ایک ایسی لسٹ لایا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ اس لسٹ میں اس کی لا محدود خواہشات بھری پڑی ہیں۔ انسان کا کام ہے کہ دیکھے اور جائزہ لے کہ ان میں کونسی ایسی ہیں جو جائز ہیں اور ان سے کسی اور کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ پھر وہ ان خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے تگو دو کرتا ہے۔ ہر انسان کو مختلف خوبیاں اور خامیاں نصیب سے ملی ہیں۔ زیادہ تر انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی ہر خامی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ آپ سے محبت رکھتے ہیں وہ آپ کی خامیوں کو بھی آپ کی ذات کا ایک اہم حصہ تصور کرتے ہیں اور اسی لیے وہ آپ کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی پیار کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی کا اصل مقصد عبادت ہے۔ اس کے بعد آتا ہے دین اور دنیا میں ایک میانہ روی کا پہلو اختیار کرنا۔ ہر وقت اللہ اللہ کر کے بھی کوئی انسان مطمئن نہیں رہ سکتا۔ اللہ نے بھی مانک یا بدھا بننے کو بالکل نہیں بولا۔ انسان کو خلیفہ بنا کر روئے زمین پر اتار دیا اور اس کو اتنی عقل دے دی کہ کوئی بھی کام کاج کر کہ دانا دنکا چگتا رہے۔
اب بات ساری نصیب کی ہے مگر انسان کا کام ہے کہ عبادت اور جاب دونوں پر دل لگا کر محنت کرنا۔ انسان کے ہاتھ میں یہ دے دیا کہ جائز کام کرے یا نا جائز۔ اپنے فیصلے انسان خود لیتا ہے اور اس کو اختیار بھی ہے۔ ان فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ کونسی چیزہے جس کی اسے تلاش ہے۔ اس کی ایک آسان مثال جو ہر ایک کو سمجھ آسکتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی بہت موٹا ہو۔ وہ بچپن سے لوگوں کا یہ رویہ دیکھتا آیا ہو کہ جو لوگ پتلے ہوتے ہیں انہیں خوبصورت خیال کیا جاتا ہے اور اس کے دل میں بھی یہ خواہش اجاگر ہو کہ میں بھی باقیوں کی طرح بالکل پتلا ہو جاؤں۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس نے شناخت کر لی کہ اسے کیا چاہیے ہے۔ جو خواہش وہ پوری کرنا چاہتا ہے اس کو وژن بولتے ہیں۔ اس کا وژن ہے کہ وہ بھی باقیوں کی طرح دبلا پتلا نظر آئے۔ وہ فربہ نظر نہیں آنا چاہتا۔ اب اس کے لیے وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہدف مقرر کرتا ہے۔ جیسے کتنا کم کھانا ہے اور کتنے عرصے تک اسی خوراک کو استعمال کرنا ہے۔ پھر وہ ہدف مقرر کرتا ہے کہ کتنی واک کرنی ہے اور کتنی کسرت کرنی ہے۔ روز کے کچھ گھنٹے اس کام کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ خوراک کا حساب اور کسرت ، چہل قدمی دراصل انسان کے چھوٹے چھوٹے روز کے ہدف ہوتے ہیں اگر وہ ان کو پورا نہیں کرے گا تو کبھی بھی اپنا وژن حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
کوئی انسان جب باقاعدگی سے اپنے سارے ہدف کو پاتا جاتا ہے تو وہ آخر کار اپنے وژن کو پا لیتا ہے۔ یہ ایک عام مثال تھی جس سے کوئی بھی انسان با آسانی سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو ڈاکٹر بننے کا شوق ہے تو وہ ہر روز کا ہدف سیٹ کرتا ہے کہ آج بیالوجی، فزکس اور کیمسٹری کے جو جو چیپٹر بھی کلاس میں پڑھ کر آیا ہوں ان کو اتنے اچھے سے گھر آکر دہرانا ہے کہ وہ مجھے ابھی یاد ہو جائیں۔ پھر ہر ہفتے اتوار کو وہ ان کو ایک بار پھر سے دہراتا ہے اور امتحان سر پر آنے سے دو ہفتے پہلے ہی سب کچھ ایک بار پھر روز دہراتا رہتا ہے۔ ہارورڈ کی ایک تیس سال پر منحصر ریسرچ کے مطابق جو انسان بھی اپنے گول یا ہدف لکھ لیتا ہے وہ ضرور اپنا وژن پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ہارورڈ کی اس ریسرج کے مطابق پوری عوام میں صرف تین فیصد لوگ اپنے گول تحریر کر کے باقاعد گی سے ان کے حصول کی طرف توجہ دیتے رہتے ہیں۔ جتنے بھی کامیاب ایکٹر ہیں، وہ سب تین مہینے کے عرصے میں با آسانی اور بغیر کسی خوف کے دبلے اور فربہ ہوتے رہتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو سمجھ چکے ہوتے ہیں کہ اس کے لیے صرف ارادے کی مضبوطی اور نظم وضبط درکار ہوتا ہے۔ انسان کوئی بڑے سے بڑا وژن بھی حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے ارد گرد ایسے لوگ نہ ہوں جو اس کو بار بار اپنی راہ سے ہٹائیں۔ ہمیشہ خود کو ایسے لوگوں میں رکھنا چاہیے جو آپ کے لیے آسانی پیدا کریں۔ جو انسان آپ کی کمزوری کو سمجھ جائے اور جانتا ہو کہ آپ اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ آپ کے ساتھ سچا ہے تو وہ اس میں آپ کی حد درجہ مدد کرے گا اور کبھی آپ سے مقابلے کا تصور بھی نہیں کرے گا۔
اور جو انسان آپ کو کمزور رہنے دے اور اس سے فائدہ اٹھائے وہ کبھی آپ کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ کامیابی آپ کا نصیب صرف تب بن سکتی ہے جب آپ کو اپنے ہدف مقرر کرنا آتے ہوں اور پھر آپ ان کے لیے ایک قرار داد بنا لیں۔ ہر گول کے لیے روز کا تھوڑا تھوڑا وقت مختص کر لیں اور پھر باقاعدگی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی سے روز ان کو حاصل کرنے کے لیے محنت کریں اور کرتے رہیں۔ پھر سب سے اہم یہ ہے کہ ایسے انسانوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جو آپ کا حوصلہ پست کرتے ہوں یا روز آپ کی روٹین میں خلل پیدا کرتے ہوں۔ تمام انسان ایک سا سانچہ اور دماغ لے کر پیدا ہوئے ہیں لیکن انسان کا بلند اور پست حوصلہ اس کو باقیوں سے بر تر یا کم تر بناتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر انسان کا عزم ہوتا ہے، جس انسان میں عزم کر کے اس کو نبھانے کی صلاحیت ہو، لاکھ دنیا اس کو لعن طعن کرے وہ اپنی راہ سے بھٹکے گا نہیں۔ جو جتنا عقل مند ہوتا ہے اتنا اسے اس دنیا کی رنگینیوں کی اصلیت اور حقارت صاف صاف نظر آتیہے۔

No comments