زیادہ بات سب بکواس
ایک سپاہی کافی دیر سے ایک چور کا پیچھا کر
رہا تھا چور کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ سپاہی تھک گیا چور جوان تھا اس لیے
وہ سپاہی سے تیز بھاگ رہا تھا چند لمحوں کے بعد دونوں کے بیچ کا فاصلہ
بڑھنے لگا اور ہوتے ہوتے چور سپاہی کی نظروں سے اوجھل ہو گیا سپاہی بیچارا
بہت پریشان ہوا کہ اس غفلت کا نا جانے اس کو کیا ہرجانہ ادا کرنا پڑے کچھ
دور ایسے ہی بھاگنے کے بعد اُسے ایک آدمی دکھائی دیا اس نے جلدی سے اس کے
پاس جا کر پوچھا کہ کیا اس نے کسی چور کو بھاگتے ہوئے دیکھا ہے اس آدمی نے
سپاہی کی بات سن کر جواب دیا یہاں سامنے تین بازار ہیں دو بازار چھوڑ کر آپ
تیسرے بازار میں داخل ہو جائیں داخل ہونے والے بازار میں آپ کو تین گلیاں
دکھائی دیں گی
آپ سیدھے ہاتھ والی دو گلیوں کو چھوڑ کر
اُلٹے ہاتھ والی گلی میں داخل ہو جائیں اور سیدھے ہاتھ والے تین گھر چھوڑ
کر لال دروازے والا جو گھر آئے اس میں داخل ہو جائیں صحن سے گزرنے کے بعد
الٹے ہاتھ پر آپ کو تین کمرے دکھائی دیں گے دو کمرے چھوڑ کر جس کمرے کے
دروازے پر ہرا رنگ ہو اس میں داخل ہو جائیں کمرے میں داخل ہونے کے بعد آپ
کو سیدھے ہاتھ پر سیڑھیاں اوپر جاتی دکھائی دیں گی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد آپ
کو ایک دروازہ دکھائی دے گا اس دروازے کو کھول کر اندر داخل ہو جائیں اس
کمرے میں تین الماریاں رکھی ہوئی ہیں دو کالی لکڑی کی الماریاں چھوڑ کر
تیسری لوہے کی الماری کھول لیں سیدھے ہاتھ والے پٹ میں آپ کو تین درازیں
دکھائی دیں گی اور کی دو درازیں چھوڑ کر نیچے کی تیسری دراز کھول لیں اس
دراز میں کاغذ کے نیچے آپ کو ایک عورت کی تصویر دکھائی دے گی وہ تصویر میری
ماں کی ہے
اور میں اپنی ماں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
میں نے کسی چور کو بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا سپاہی جو اتنی دیر سے اس آدمی
کی بات سن رہا تھا کہ شاید وہ چور کا پتہ بتا دے ماں کی قسم والی بات سن کر
سپاہی کو بہت غصہ آیا اور اس نے آدمی کو گردن نے پکڑ لیا اور کہا کہ ہو نا
ہو تم چور کے ساتھی ہو جبھی تم نے میرا وقت ضائع کیا تا کہ تمھارا دوست
فرار ہو سکے اب اس آدمی نے قسمیں کھانی شروع کر دی مگر سپاہی اس آدمی کو
گردن سے پکڑ کر تھانے کی طرف چل پڑا!جب اپنا مدعا مختصر بات میں بیان کیا
جا سکتا ہے تو اس کے لیے لمبی چوڑی تمہید اختیار کرنے سے معاملہ خراب بھی
ہو سکتا ہے


No comments