طارق بن زیاد
ملک اسپین کے جنوب میں ایک جگہ ہے جسے جبرا
الٹر کہتے ہیں ‘اس کا عربی نام جبل طارق ہے ۔یہ نام مشہور سپہ سالار طارق
بن زیاد کے نام پر ہے ۔طارق بن زیاد نے اپنی ہمت اور جوا ں مردی کے باعث
اپنے سپاہیوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا‘وہ جو حکم دیتا وہ فوراََ اس کی
تعمیل کرتے ۔
سپین کی فتح یوں ہے کہ خاندان بنوامیہ کے
چھٹے خلیفہ ولید اول کے زمانہ میں موسیٰ بن نصیر شمال افریقہ کے حاکم اور
سپہ سالار تھے ،اس کے ہمسایہ ملک سپین میں عیسائی بادشاہوں کے ظلم سے رعایا
بہت پریشان تھی ۔انہی وجوہات کی بنا پر موسیٰ بن نصیر نے ولید اول سے
اجازت لے کر اپنے ایک سپہ سالا ر طارق بن زیاد کی سر کردگی میں سات ہزار
سپاہیوں کی فوج سپین کی طرف روانہ کی ۔اس زمانے میں سپین پر جس بادشاہ کی
حکومت تھی اس کا نام روڈرک تھا ۔اس نے طارق کی فوج کی خبر سنی تو اس نے
اپنی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا۔
طارق بن زیاد نے اپنی فوج میں پانچ ہزار
سپاہی اور جمع کر لئے اس طرح طارق بن زیاد کی فوج میں بارہ ہزار سپاہی
ہوگئے لیکن اس کے مقابلے میں عیسائی فوج کی تعداد ایک لاکھ تھی ۔کہتے ہیں
کہ جب طارق بن زیاد اپنی فوجوں کو لے کر جبل الطارق پر اتر ا تو جن کشتیوں
میں بیٹھ کر آئے تھے
وہ سب ساحل پر جلا ڈالیں ‘فوج کے افسروں نے
اس اقدام کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ۔طارق بن زیاد نے اس موقع پر ایک
تاریخی تقریر کی ’’اب تمہارے لئے فرار کی کوئی راہ نہیں ‘دشمن تمہارے آگے
ہے اور سمندر تمہارے پیچھے تمہارے زندہ رہنے کی صورت یہی ہے کہ تم آگے بڑ ھ
کر دشمن کے ملک پر قبضہ کرلو۔
اس کے بعد طارق بن زیاد اور ڈ رک کی فوجوں
کا مقابلہ ہوا‘ایک طرف ایک لاکھ فوج اور دوسری طرف بارہ ہزار مسلمان
۔مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔روڈک مارا گیا اوربارہ ہزار فوج نے ایک لاکھ فوج کو
شکست دی ۔اس کے بعد رفتہ رفتہ پورے سپین پر قبضہ کر لیا ۔طارق کی فتح
اسلام کی بڑی فتح تھی ۔اس فتح نے یورپ میں اسلام کی ترقی کے راستے کھول
دیئے ۔گویا یہ طارق بن زیاد کی ذات تھی جس نے سپین میں اسلام کا بول بالا
کیا اور اس طرح تاریخ میں طارق بن زیاد کا نام ہمیشہ کے لئے باقی رہ گیا۔


No comments