Ads

Breaking News

شرعی سزاؤں کے بغیر جرائم کا خاتمہ ناممکن ہے

فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے والا طبقہ اور ہمارا بے لگام میڈیا، قصور واقعہ کی آڑ میں، وطن عزیز پاکستان کے تعلیمی اداروں میں، مغربی یلغار کے مطابق اور مغربی طرز پر ”جنسی تعلیم“ کی مہم چلا رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے جنسی بربریت کو روکنے کے لیے ہمیں ”نائیٹ کلب“ کھولنے چاہیے۔ ہمارے نادان مسلمان بھائی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں، میرا سوال ہے کیا مغرب میں جنسی تعلیم کے باوجود یہ بدمعاشی عروج پر نہیں؟؟؟؟
کیا امریکہ میں ہر دو منٹ بعد کسی نہ کسی عورت کی عصمت دری نہیں ہو رہی؟؟؟؟؟
جب مغرب، جنسی تعلیم کے باوجود اس ناسور سے نہیں بچ سکا تو ہمارا معاشرہ جنسی تعلیم کے پڑھانے سے اس درندگی سے کیسے بچ جائے گا؟؟؟؟؟
جنسی تعلیم کی مہم چلانے والے، نائیٹ کلب بنانے کی آواز لگانے والے، ان اسلامی اصولوں کی بات کیوں نہیں کرتے جن کی بنیاد پر یہ وطن عزیز معرض وجود میں آیا تھا۔
قرآن کریم کی ان شرعی سزاؤں کی مہم کیوں نہیں چلائی جارہی جن کی بدولت پوری دنیا میں امن قائم ہوگیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافذ کردہ ان حدود وقیود کی مہم کیوں نہیں چلائی جارہی، جنہوں نے عورت کو زندگی بخشی۔ عورت کی عزت وعصمت کا خیال رکھا۔ جنہوں نے بے سہارا لوگوں کو سہارا دیا۔ جن حدود وقیود نے حق والوں کو ان حق دلایا اور قصور وار کو قانونی اور عوامی کٹہرے میں سر عام شرعی سزائیں دے کر جرائم کا خاتمہ کیا۔
ان تمام جرائم کا حل شرعی سزاؤں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ قرآن وسنت کے اصولوں کے مطابق سزا دینے سے ہی معاشرے سے یہ بد نما داگ ختم ہوسکتے ہیں۔ ان کا حل ”جنسی تعلیم“ پڑھانے میں نہیں، بلکہ اس اسلامی تعلیمی نصاب پڑھانے میں ممضمر ہے، جو طلبہ کو حقیقی معنوں میں مسلمان بنا سکے۔ والدین، بہن بھائی، عزیز واقارب اور پڑوسیوں کے حقوق سے آشنا کر سکے۔ وہ نصاب تعلیم جو مسلم طلبہ کو حیا کے زیور سے آراستہ کر سکے۔ وہ نصاب تعلیم، جس کو پڑھنے کے بعد طلبہ، کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر، جرائم کو ”رشوت کی دلدل“ میں دھت ہو کر، معاف کرنے کی بجائے، جرائم کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر سکیں۔ ایسا نصاب تعلیم پیش کیا جائے۔ تب معاشرہ تبدیل ہوگا۔ جب معاشرہ تبدیل ہوگا تو ان جرائم کا خاتمہ خود ہوجائے گا۔
مغربی سوچ کی مہم چلانے والوں سے التماس ہے، یہ پاکستان ہے اور پاکستان کا حصول خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر ممکن ہوا ہے۔ یہاں مغربی یلغار کا ہر سطح پر راستہ روکا جائے گا۔ جسے مغرب اور مغربی تہذیب پسند ہے نقل مکانی کر کے مغرب میں تشریف لے جائے۔ مغرب کے کالے کرتوت وطن عزیز پاکستان میں لانے کے لیے مہم مت چلائیں۔

No comments